صدائے دل اگر اب بھی تھجے سنائی نہ دےمرے تڑپنے کی جاناں تو پھر گوائی نہ دے

جوانی تو گذار دی تری سیوا کرتے
مگر اب تو اے ذندگی مھجے دہائی نہ دے

مر مر کے اس طرح جیا ھوں تیرے شہر میں
اب تو جینے کی مھجےاورکوئی دعاہی نہ دے

ترےپہلو میں ھو اگرتو پھر محبوب ہے بس

دوگز زمین کا ٹکڑا یہ تختے شاہی نہ دے

وہ توسمجھیں گےپھریہی کہ خوش نصیب ہےتو
جب تک زخمی جگر انکو نواز دکھائی نہ دے