محبتوں کے لُٹائے جس نے خزانے ہیں=اُسی شمئح رسالت کے ہم دیونے ہیں!!زباں سے کہنے کی جراَت بھلا کہاں ہم میں=پراپ تو یہ حالِ دل ہمارا جانے ہیں!!آنسو بہتے ہیں صرف خون اب نکلتا نہیں=نیا ہےدرد مگر زخم توپُرانے ہیں!!یہ آخِرت کی نشانی نہیں تو کیا ہےپھر؟؟=مسجدیں خالی پڑیں ہیں بھرے میخانے ہیں!!نہ کر جلدی اتنی نواز،قدم آہستہ لے=کہ آگے اور بھی چل کر تو زخم کھانے ہیں