ناراض ہے مجھ سے یار مراکیوں روٹھ گیا دلدار مرا
کیا جانئے کیوں تبدیل ہوا
وہ لوٹ کے مجھ سے پیار مرا
اک پل میں غارت اس نے کئے
افکار مرے، کردار مرا
جس دن سے مجھے وہ چھوڑ گیا
من رہتا ہے بیمار مرا
کیوں پہنچ نہ پایا منزل پر
ہر رستہ تھا ہموار مرا
تھا اپنی خوشی کا متلاشی
گھر کر گیا وہ مسمار مرا
میں سہ گیا سارے ظلم ترے
اب دیکھ ذرا تو وار مرا
امید جہاں تھی دنیا کو
انکار ہوا ہر بار مرا
آؤ کہ کرکٹ ہم کھیلیں
اصرار ہے یہ ابرار مرا