شاہین فصیحؔ ربانی
غزل
تمہاری فتح کا اعلان کرنا چاہتا ہے
زمانہ تم کو یوں حیران کرنا چاہتا ہے
اسے کہیے کہ میری مشکلیں بڑھنے لگی ہیں
جو میری مشکلیں آسان کرنا چاہتا ہے
اِسی میں فائدہ مضمر ہے میرا‘ جانتا ہوں
اگرچہ وہ مرا نقصان کرنا چاہتا ہے
دعائیں اُس کی خیریت کی ہیں میرے لبوں پر
جو میرے شہر کو ویران کرنا چاہتا ہے
یہ نشتر کیوں اُٹھا رکھّے ہیں اُس نے
اگر وہ درد کا درمان کرنا چاہتا ہے
وہ پھر ملنے لگا ہے مہرباں ہو کر‘ کہوں کیا
وہ پھر مجھ پر کوئی احسان کرنا چاہتا ہے
فصیحؔ اُس کو ہواؤں کی حمایت مل نہ جائے
وہ دنیا میں بپا طوفان کرنا چاہتا ہے