وہ مجھے ستانے کے منصوبے تیار کرتا ہے۔۔ایک بارنہیں وہ ایسا بار بار کرتا ہے۔۔
جو بھی اُس کی بھلائی کا سوچتا ہے۔۔
وہ اُسے دشمنوں میں شمار کرتا ہے۔۔
جسےچِژی مار کہتے تھےلوگ کبھی۔۔
سنا ہے اب وہ شیروں کا شکار کرتا ہے۔۔
جب کوئی نہیں سنتا آہ و فغاں اُس کی۔۔
پھر کچھ دن خاموشی اختیار کرتا ہے۔۔
بڑا شریر ہو گیا ہے مجھ سے بچھڑ کر۔۔
اب لوگوں کومیرے بارے ہوشیار کرتا ہے