ہم جب بھی کہیں تازہ کلام سنانے گئے پھراُس کےبعد ہم سیدھےتھانے گئے
ہربارمایوس ہو کر گھر لوٹے
جب بھی کسی دوست کوآزمانےگئے
کوئی نہ کوئی ہڈی پسلی تڑوا کےآئے
اَ کھاڑےمیں جب بھی زور اَزمانے گئے
جہنیں ہم نے منہ زبانی خوشیا بخشیں
ان کی نظروں ہم شاعر نہ مانے گئے