مجھےدھوکہ میرا دل جانی دے گیاخشک آنکھوں کو وہ پانی دے گیا
نہ جانے کیسے ڈھونڈوں گی اسے
مجھےتصویر وہ پرانی دے گیا
پیار سے جسےبکرُو کہتی تھی میں
وہی ظالم میری قربانی دے گیا
کسی کو کیسے یقیں آئےہماری محبت کا
مجھےکوئی نہ وہ نشانی دے گیا
اسےکتنی فکرتھی میری تنہائی کی
لوٹ آنے کا وعدہ منہ زبانی دےگیا