آگ کے شہر میں تنکے کی حقیقت کیا تھیدشت پر پھول کا سایہ تھا محبت کیا تھی

زخم تھے، درد تھا، تنہائی تھی، ویرانی تھی
کیا بتاؤں تیرے عشق میں راحت کیا تھی

تُجھ کو چاہا ہی نہیں تیری عبادت کی تھی
ایک پتھر کو مگر اِس کی ضرورت کیا تھی

ایک مدت ہوئی اِظھارِ محبت کیئے ہوئے
آج تک سوچ رہا ہوں کہ حماقت کیا تھی

کیا بتاؤں کہ یہاں پوچھ رہے ہیں سب لوگ
وہ جو گزری ہے میرے دل پہ قیامت کیا تھی
———